شہید ذوالفقار علی بھٹو جامعہ قانون اور برطانوی یونیورسٹی میں معاہدے کو منظوری مل گئی

شہید ذوالفقار علی بھٹو جامعہ قانون (ذیبول) آئندہ تعلیمی سال کے داخلے برطانیہ کی نارتھمپٹن یونیورسٹی کے ساتھ ہونے والے اشتراک عمل کے معاہدے کے مطابق کرسکے گی کیونکہ وفاقی وزارت داخلہ نے بالآخر اس معاہدے کو سیکورٹی کلیرنس جاری کردی ہے۔ اس معاہدے کے مطابق سندھ کے غریب اور متوسط طبقات سے تعلق رکھنے والے ذہین اور محنتی طلبا و طالبات انڈر گریجویٹ کورسز میں 2000پاونڈ اور پوسٹ گریجویٹ کورسز میں محض 1300 پاونڈ سالانہ فیس ادا کرکے آخری سال کی تعلیم برطانیہ میں حاصل کریں گے اور انہیں ڈگری بھی برطانوی یونیورسٹی عطاکرے گی۔اس معاہدے کیلئے عملی کوششوں کیا آغاز نومبر 2016میں ہوا جب جامعہ قانون کے وائس چانسلر قاضی نے قاضی نے ذیبول کے’’نیو ڈیل پروگرام‘‘ کے تحت لند ن میں پاکستانی ہائی کمشن میں برطانوی یونیوسٹیوں سے مزاکرات کا آغاز کیاتھا۔ ابتدائی معاہدہ نارتھمپٹن یونیورسٹی سے ہوا جس کی حکومت سندھ، اعلی تعلیمی کمیشن سندھ، اعلی تعلیمی کمیشن پاکستان اور وزارت خارجہ منظوری دے چکے ہیں ۔ وفاقی وزارت تعلیم نے 30مارچ 2018کووفاقی وزارت داخلہ کو اس معاہدے کو سیکورٹی کلیئرنس دینےکے لیے خط لکھا تھا جس کے بعد چار مرتبہ یاد دہانی کے خطوط لکھے گئے لیکن مطلوبہ سیکورٹی کلیئرنس جاری کرنے کا معاملہ زیر

التوا رہا۔ اب جبکہ ذیبول کا نیا تعلیمی سیشن ستمبر کے دوسرے ہفتے سے شروع کرنے کافیصلہ کرلیا گیا ہے سیکورٹی کلیئرنس کی اہمیت دوچند ہوگئی تھی۔ جامعہ قانون کے بانی شیخ الجامعہ جسٹس (ر) قاضی خالد علی نے 25اگست کو وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے اپیل کی تھی کہ وہ ذیبول کراچی اور نارتھمپٹن یونیورسٹی برطانیہ کے درمیان پاکستانی طلبا و طالبات کی اسکالرشپس اور اعلی تعلیم کے حوالے سے ہونے والے اشتراک عمل کے معاہدے کی وفاقی وزارت داخلہ سے جلد از جلد سیکورٹی کلیرنس کے معاملے میں اپنا کردار ادا کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں